ارومچی۔۔۔۔۔۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل صارفین کی تعداد 15 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ،گزشتہ دو برس میں ڈیٹا کے استعمال میں تقریباً 25 فیصد اضافہ ہوا ہے،پاکستان میں فائبر کنکشنز 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ سے زائد ہو چکے ہیں اور وائرڈ براڈ بینڈ کو ایک کروڑ گھرانوں تک پہنچانے کا ہدف ہے۔شنگھائی تعاون تنظیم ڈیجیٹل اکانومی فورم سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی اور آئی سی ٹی برآمدات گزشتہ مالی سال ریکارڈ 4.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، اب ہدف صرف خدمات کی برآمد نہیں بلکہ ٹیکنالوجی مصنوعات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی پر مبنی صنعتوں کا فروغ ہے۔ پاکستان کے لیے ڈیجیٹل معیشت جامع معاشی تبدیلی کا ایجنڈا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی میں خواتین کی شمولیت ناگزیر ہے، پاکستان میں خواتین کے موبائل انٹرنیٹ استعمال کی شرح 33 فیصد سے بڑھ کر 45 فیصد ہو چکی ہے جبکہ صنفی فرق 35 فیصد سے کم ہو کر صرف 8 فیصد رہ گیا ہے۔ ایسی ڈیجیٹل تبدیلی جو خواتین کو پیچھے چھوڑ دے نہ معاشی طور پر مو¿ثر ہو سکتی ہے نہ سماجی طور پر منصفانہ۔احسن اقبال نے کہا کہ ا±ڑان پاکستان کے تحت 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کا ہدف حاصل کرنے کے لیے برآمدات، پیداوار، جدت، سرمایہ کاری اور انسانی وسائل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ا±ڑان پاکستان کے پانچ بنیادی ستونوں میں شامل ای پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کو معاشی ترقی کا اہم رکن قرار دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، کلاو¿ڈ کمپیوٹنگ، سیمی کنڈکٹرز، جدید صنعت اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اپنی صلاحیتیں بڑھا رہا ہے، جبکہ تحقیق، ہنرمندی، نئے کاروبار اور صنعت کو باہم مربوط کرنے کے لیے سات مصنوعی ذہانت مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے پاس وسیع منڈیاں، توانائی و معدنی وسائل، سائنسی صلاحیتیں اور نوجوان افرادی قوت کا بے مثال سرمایہ موجود ہے، ہمیں ٹیکنالوجی کے صرف صارف نہیں بلکہ ڈیجیٹل مستقبل کے تخلیق کار بننا ہوگا۔احسن اقبال نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت ڈیجیٹل تجارتی راہداری قائم کرنے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ کسٹمز، ترسیل، برقی تجارتی دستاویزات، ڈیجیٹل دستخط اور سرحد پار ادائیگیوں کے نظام کو باہم مربوط کیا جائے تاکہ علاقائی تجارت تیز، آسان اور کم لاگت بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت اسے چین، وسطی و جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان اہم رابطہ بناتی ہے، ہمیں علاقائی روابط کو علاقائی مسابقت میں تبدیل کرنا ہوگا،سی پیک 2.0 اور خصوصی اقتصادی زونز چینی ٹیکنالوجی اور پاکستانی کاروباری صلاحیت کو علاقائی منڈیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے اور طرز حکمرانی کے مشترکہ نظام کی تجویز پیش کی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت میں مشترکہ تحقیق، کثیر لسانی ماڈلز، جامعات کے درمیان شراکت داری اور انسانی وسائل کی ترقی کو فروغ دینا ہوگا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈیجیٹل ترقی کا فائدہ صرف بڑے شہروں اور بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ خواتین، نوجوانوں، دیہی آبادی، چھوٹے کاشتکاروں اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کے لیے مواقع کا ذریعہ بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ فورم کی کامیابی کا اصل پیمانہ صرف اعلانات نہیں بلکہ ان سے پیدا ہونے والی تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی شراکت داری اور روزگار کے مواقع ہیں۔ پاکستان چین اور شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔
You can share this post!
administrator



