DAILY AFTAB QUETTA

پاکستان پھر نازک موڑ پہ

پاکستان پھر نازک موڑ پہ

1947 سے لے کر اب تک لیبارٹری میں جب بھی پاکستانی بچے کا ٹیسٹ ہوا ہے۔سیاسی ڈاکٹروں نے یہی رپورٹ دی یہ بچہ انتہائی نازک موڑ پہ ہے۔ اسکا مہنگائی کولیسٹرول عروج پر بےروزگاری کی نسیں جواب دے چکی ہیں نسلی و صوبائی فسادات والا دل جواب دے چکا ہے۔ اچھی اور مثبت سوچ رکھنے والے گردے فیل ہوچکے ہیں۔عوام تھکے ہارے والدین کی طرح خدا کی مرضی سمجھ کے خاموش ہوجاتے ہیں۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے 27 ستمبر 2026 کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اور احتجاج کا اعلان کیا ہے اور اس بیماری شدہ بچے کو ان بیماریوں سے خلاصی دلانے کی پھر سے کوشش کرنےلگی ہے جس کی کامیابی کے چانسیس دور دور تک نظر نہیں آتے ہاں ایک بات یاد رہے کہ ایک ایسی ذات بھی ہے جو ایک کیڑی سے ہاتھی مروا سکتی ہے۔جو دکھتا بھی ہے اور نہیں بھی اور معجزات کا خدا بھی کہلاتا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت اسے پ±رامن احتجاج قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد میں سڑکیں اور عوامی مقامات بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر ایک عقبابی نظر دوڑائی جائے تو آدھا پاکستان احتجاج سے قبل گورنمنٹ خود کنٹیرز لگا کر اور موٹر وے بند کرکے اسے بند کرچکی ہے۔یہ صورتحال صرف ایک سیاسی جماعت اور حکومت کے درمیان کشمکش نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنے سیاسی اختلافات کو تصادم کے بجائے آئینی اور جمہوری راستے سے حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی واضح کیا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور رہنماو¿ں کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں اور دیگر مقامات پر ایسا قبضہ یا رکاوٹ پیدا کرنے کا قانونی حق نہیں جو شہریوں کی نقل و حرکت متاثر کرے۔ عدالت نے صوبائی حکومتوں کو یہ بھی ہدایت کی کہ سرکاری وسائل کو سیاسی احتجاج کے لیے استعمال نہ کیا جائے اور شہریوں کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ احتجاج اس کا آئینی و جمہوری حق ہے اور پارٹی 27 ستمبر کو پ±رامن مارچ کرے گی۔ پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بھی حالیہ دنوں میں یہی مو¿قف دہرایا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ریاست اور سیاسی جماعت دونوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ قانون سب کے لیے یکساں ہو۔ اگر احتجاج کی اجازت ہے تو اس کے لیے واضح قواعد ہوں، اور اگر کسی مخصوص مقام پر پابندی قانونی طور پر ضروری ہے تو اس کی وجہ اور قانونی بنیاد عوام کے سامنے واضح کی جائے۔ اسی طرح سیاسی جماعت کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کو پ±رامن رکھے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان نہ پہنچے، عام شہریوں کے راستے بند نہ ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے۔پاکستان پہلے ہی سیاسی تقسیم، معاشی مشکلات اور اداروں کے درمیان اعتماد کے بحران جیسے مسائل سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی اختلاف سڑکوں کے تصادم میں تبدیل ہوتا ہے تو نقصان صرف حکومت یا اپوزیشن کا نہیں ہوگا؛ نقصان پاکستان کے عام شہری کا ہوگا۔بازار، تعلیمی ادارے، دفاتر، کاروبار، مریض، مسافر اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے لوگ سیاسی کشمکش کے سب سے پہلے متاثرین بنتے ہیں۔ اس لیے سیاسی قیادت کو یہ بات ہمیشہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ احتجاج کا مقصد عوام کی آواز بننا ہے، عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنا نہیں۔دوسری طرف حکومت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سیاسی احتجاج کو صرف انتظامی یا سکیورٹی مسئلہ سمجھنے کے بجائے اس کے سیاسی اسباب پر بھی توجہ دے۔ مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا، شکایات سننا اور آئینی راستے تلاش کرنا کسی بھی جمہوری نظام کی طاقت ہوتی ہے۔حالیہ دنوں میں حکومت کی جانب سے مارچ روکنے کے اعلانات اور پی ٹی آئی کی جانب سے مارچ جاری رکھنے کے عزم نے کشیدگی بڑھا دی ہے۔ بعض کارکنوں اور سیاسی شخصیات کی گرفتاریوں نے بھی ماحول کو مزید حساس بنایا ہے۔ ان گرفتاریوں کے بارے میں حکومت اور پی ٹی آئی کے مو¿قف مختلف ہیں، اس لیے ان دعوو¿ں کو حتمی حقیقت سمجھنے کے بجائے متعلقہ قانونی کارروائی اور قابلِ اعتماد شواہد کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔27 ستمبر صرف ایک تاریخ نہیں؛ یہ پاکستان کے سیاسی مزاج کا امتحان بھی بن سکتی ہے۔اگر احتجاج ہوتا ہے تو اسے پ±رامن رہنا چاہیے۔ اگر حکومت کو خدشات ہیں تو ان کا حل طاقت کے بجائے قانون اور مذاکرات میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ اگر اپوزیشن کو شکایات ہیں تو انہیں آئینی اداروں، پارلیمان اور عدالتوں کے راستے استعمال کرنے چاہئیں۔ اور اگر عوام کسی سیاسی جماعت کے ساتھ ہیں تو ان کے سیاسی حق کا احترام بھی جمہوری نظام کا حصہ ہے۔پاکستان میں سیاسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کی علامت ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی اور احتجاج کو تصادم بنا دینا جمہوریت کو کمزور کرتا ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اپنے اپنے کارکنوں کو واضح پیغام دیں: قانون ہاتھ میں نہیں لیا جائے گا، عوامی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہوں گے اور سیاسی اختلاف کو تشدد میں تبدیل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کو اس وقت ایک دوسرے کو شکست دینے سے زیادہ ایک دوسرے کو سننے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا اور ریاستی طاقت اور عوامی احتجاج آمنے سامنے آ گئے تو سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ کون جیتا اور کون ہارا؛ سوال یہ ہوگا کہ پاکستان نے کیا کھویا؟اسی لیے آج ہر سیاسی رہنما، ہر کارکن اور ہر ادارے کے لیے ایک ہی پیغام ہونا چاہیے۔ کہ پاکستان کو بحران سے نکالنے کا راستہ تصادم نہیں، آئین، قانون، مکالمہ اور جمہوری برداشت ہے۔ کیونکہ پاکستان پھر نازک موڑ پہ ہے۔

administrator

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

اہم خبریں