انجیل مقدس میں خداوند یسوع المسیح نے اپنے پیغام میں نیک سامری کا ذکر کیا، جس کا مقصد مساوی حقوق اور بے لوث خدمت کا درس ہے۔ لوقا ۱۰: ۲۵-۳۷۔مسیحیوں نے ہر شعبہ زندگی میں پاکستان کی تعمیر و ترقی، دفاع، پبلک سروس، تعلیم اور تربیت میں ملک بھر میں اپنا لوہا منوایا۔ خداوند یسوع نے ۱۲ شاگردوں کا چناو¿ کیا، لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وہ ایماندار مسیحی تیرہواں شاگرد ہے جو مخلصی، محنت اور ایمانداری کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتا ہے اور وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پڑوسیوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔یوحنا ۱۵:۱۳ میں خداوند یسوع فرماتے ہیں: “خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری طاقت اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ، اور اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔” (لوقا ۱۰:۲۷) پھر یسوع نے نیک سامری کی تمثیل سنائی اور آخر میں فرمایا: “جا، تم بھی ایسا ہی کرو۔” (لوقا ۱۰:۳۷)۔ “اس سے زیادہ محبت کوئی شخص نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے دے۔”(اکتوبر ۲۰۰۹) انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد (خواتین کی کیمپس) کے بہادر خاکروب پرویز مسیح (Pervaiz Masih) نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر سینکڑوں طالبات کی جان بچائی تھی۔ ایک خودکش حملہ آور خواتین کے کیمپس کے اندر داخل ہوا جو کہ برقعے میں ملبوس تھا۔ وہ اس کیفے ٹیریا کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں سینکڑوں طالبات موجود تھیں۔ بہادر سویپر پرویز مسیح نے اسے دروازے پر ہی روک لیا اور اندر جانے سے منع کیا۔ حملہ آور نے وہیں خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ پرویز مسیح شہید ہو گئے لیکن دھماکا باہر ہی ہونے کی وجہ سے اندر موجود طالبات محفوظ رہیں۔پرویز مسیح اگر چاہتا تو اپنی جان بچا سکتا تھا، ایک ایسا شخص جس کو معاشرہ اس کے پیشے کے اعتبار سے کمتر جانتا ہے، جس کے کھانے پینے کے برتن الگ ہیں، جس کو نوکری بھی اس کے مذہب کی بنا پر ملی۔ پرویز مسیح خاکروب نہیں بلکہ وہ خداوند یسوع کا تیرہواں شاگرد تھا جس نے اپنی جان دے کر پاکستان کی بیٹیوں کو بچایا۔ یوحنا ۱۵:۱۳ کی یہ آیت اس کی زندگی میں پوری طرح سچ ثابت ہوئی۔متی ۲۵:۴۰ میں یسوع فرماتے ہیں:“میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تم نے میرے ان سب سے چھوٹے بھائیوں میں سے کسی ایک کے ساتھ یہ سلوک کیا تو گویا میرے ہی ساتھ کیا۔”پمز ہسپتال میں نوزائیدہ بچوں کی وارڈ میں جب آگ موت کا کھیل کھیلنے میں مصروف تھی تب اس وارڈ کا سارا عملہ اپنی جان بچا کر بھاگ رہا تھا، جب وارڈ کے ہر کونے میں دھواں سے دم گھٹ رہا تھا، جب ظالم آگ کی تپش اور وحشت کے سامنے تمام لوگ ہتھیار پھینک چکے تھے، تب ایک بہادر بیٹی نے خطرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں، جب سلگتی آگ ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تب خدا کے تیرہویں شاگرد نے دروازہ کھولا اور ایک بچہ اٹھایا اور اس بچے کو امر کر دیا۔ کاش اس موقع پر وارڈ میں موجود عملہ ایک ایک بچہ اٹھاتا تو شاید بھاری جانی نقصان نہ ہوتا۔ رضیہ نورین نے بتایا کہ اس کے بس میں ہوتا تو وہ سب بچوں کو بچا لیتی۔حکومت نے اس بہادر نرس رضیہ نورین کے لیے بھاری انعام اور سول ایوارڈ (ستارہ خدمت) کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ قابلِ ستائش ہے لیکن کیا ہی بہتر ہوتا کہ حکومت انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں شہید ہونے والے خاکروب پرویز مسیح کے لیے بھی ستارہ جرات یا ستارہ خدمت کا اعلان کرے، تاکہ اس کے جوان ہونے والے بچوں اور یونیورسٹی میں داخلہ لینے والی بچیوں کو شہید پرویز مسیح کی شہادت اور اس کے پیشے کی اہمیت کے بارے میں علم ہو۔ ہمارا تو ویسے بھی پختہ یقین ہے کہ پاکستانی مسیحی ہر ادارے میں تیرہواں شاگرد بن کر خدمات سرانجام دیتا ہے۔یسوع نے کہا: “تم بھی جاو¿ اور ایسا ہی کرو۔” (لوقا ۱۰:۳۷)اور پھر: “اس سے زیادہ محبت کوئی نہیں کرتا کہ اپنی جان اپنے دوستوں کے لیے دے دے۔” (یوحنا ۱۵:۱۳)۔ آج کے نفسہ نفسی کے دور میں جب جائیداد کے بٹوارہ پر بھائی بھائی کا دشمن ہے، جب غیرت کے نام پر عورتوں کا قتل عام ہو رہا ہے، جہاں کم سن بچیوں کو آئے روز جنسی تشدد کا سامنا ہے، وہیں پر تیرہویں شاگرد کی زمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے اور اسکی بہادری کا ایک ہی لمحہ اسکی ساری زندگی کی پہچان بن جاتا ہے۔جو خدا کی ہیکل کا نمونہ ہے۔



