29 اگست بروز دوپہر بارہ بجے مقدسہ مریم ویلنکانی کا جھنڈا لہرا گیا اور بروز 30 اگست 2026 ءسے باقاعدہ طور پر نودنیہ کا آغاز کیا گیا ہر روز مختلف مقرر تشریف لاکر مقدسہ مریم کی عقیدت اور شان کو بڑھاتے ہے ۔1۔مقرر ، فادر تعظیم ساگر ، عنوان اے ماں پاک دامن ۔2 ۔ مقرر ، فادر عامر ، عنوان اے ماں پاک دامن ۔3۔مقرر ، فادر ارشاد ، عنوان اے ماں خاندانوں کی ۔4 ۔مقرر ، فادر برنارڈ ڈایلفرڈ ، اے ملکہ صلح کی ۔5 ۔مقرر ، فادر سموئیل غوری ، عنوان ، اے ملک حواریوں کی ۔6 ۔مقرر ، عمانوائیل مشتاق ، عنوان ، اے مدد مسیحیوں کی ۔7 ۔مقرر ، فادر سمران بوٹا ، عنوان ، اے تسلی دل گیروں کی ۔8 ۔مقرر ، فادر سیمسن شاکر ، عنوان ، اے سب ہماری خوشی کی ۔9 ۔مقرر ،فادر پرویز رضا عنوان ، اے شفاءبیماریوں کی ۔ان نو دن نودنیہ کے اختتام پر رسم تاج پوشی ویوخرستی عبادت و قیادت فضیلت مآب آرچ بشپ سبیسٹن فرانسس شاہ نے کی ۔انہوں نے اپنے واعظ کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن خوشی کا دن ہے کہ ہم آج مقدسہ مریم کی پیدائش کا دن مناتے ہیں اور آج ہم ایک ایسی بابرکت ہستی کی عید منانے کے لئے جمع ہوئے ہیں جنہیں خدا نے اپنی نجات کے عظیم منصوبے میں خاص مقام عطاءفرمایا لہٰذا ہم مقدسہ مریم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے خدا کی مرضی کو عزیز جانتے ہوئے کہاکہ میں خداوند کی بندی ہوں ۔میرے لئے تیرے قول کے مطابق ہو ، یہ الفاظ صرف مقدسہ مریم کی زندگی کا اعلان نہیں بلکہ ہمارے لئے بھی ایک پیغام ہے کہ جو لوگ عبادت گزاری میں لگے رہتے ہیں ایمان میں ثابت قدم رہتے ہیں ان کے لئے خدا کے منصوبے محبت ، خدمت ، امن اور انسانیت کو فروغ دینا ہے ، اگر ہم مقدسہ مریم کے والدین کی بات کریں تو وہ بہت نیک اور خدا ترس تھے طویل عرصہ تک ان کی اولاد نہ تھی مگر وہ ثابت قدم تھے ان کے والد اور والدہ دعا میں مستقل رہتے تھے ایک مرتبہ انہیں حکم ہوا کہ وہ ریگستان و ویران جگہ پر چالیس دن نکل جائیں اور خدا سے دعا مانگیں انہوں نے ایسا ہی کیا ایک مرتبہ وہ بیابان میں درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے تو شاخ پر پرندے اپنے بچوں کو کھانا کھلا رہے تھے تو انہیں بھی حسرت ہوئی کہ کاش ہماری بھی اولاد ہو اور پھر انہیں نے یہ بھی عہد کیا کہ خدا ہمیں جو اولاد دے گا وہ ہم ہیکل میں نذر کردئیے گئے اس طرح ان کی دعا سنی گئی اور خداوند نے یواکیم اور حنا کو بیٹی سے نوازا جو یسوع کی ماں بنی یہ خدا کا منصوبہ تھا ، وہ نذر ہی اس لئے کی گئی کہ وہ گناہوں سے مبرا تھی اس لئے تو آج کے دن مقدسہ مریم کی پیدائش کا تہوار مناتے ہیں اور یہ بھی خوش آئین بات ہے کہ سینٹ پائیس کی کلیسیاءنے پورے نو دن مختلف پہلو¶ں سے مقدسہ مریم کو جانا تمام مقررین نے خوبصورت انداز خوبصورت الفاظ اور نہایت عقیدت و احترام سے مقدسہ مریم کو پیش کیا کہ اگرچہ وہ بڑھاپے کی اولاد تھی پھر بھی انہوں نے اپنے کئے گئے عہد کو پورا کیا اور یہ خدا کی قدرت ہے کہ جو بڑے بڑے کام کرتا ہے ، لہٰذا ہمیں بھی خدا کی حضوری میں رہتے ہوئے خدا کی رضا کو مقدم جانیں ، خدا کے کام کرتے ہوئے تھکے نہیں خدا سے مضبوط ایمان کے لئے دعا مانگیں کیونکہ دعا مستقل رہنا ہی ایمان کی گواہی اس نوونیے میں یقیناً آپ نے مقدسہ مریم سے بہت سی عرضیں ، منتیں اور گزارشات کی ہونگیں ۔یقین رکھیں کہ جو کچھ مانگا وہ ضرور ملے گا پھر انہوں نے مریم آباد میں ایک مسلم جوڑے کی مثال دی کہ ان کو مقدسہ مریم کے میلے پر آنے نہیں دیا جارہا تھا مگر میں نے ان کی عقیدت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں جلوس میں جانے کی اجازت دی ان کا کہنا تھا کہ ہم اب ہر جگہ سے مایوس ہوکر آئے ہیں تاکہ اولاد مانگ سکے اور واقعہ ہی سولہ سال کے بعد جب انہیں اولاد کا تحفہ بیٹا ملا تو وہ پھر شکر گزاری کے لئے اپنے بیٹے کو بھی لے کر آئے ، یعنی ایمان کے توسعت سے ان کی دعا سنی گئی جو وہاں موجود لوگوں کے لئے بہت بڑی گواہی اور ایمانی تقویت کا باعث ہے لہٰذا آئیے مقدسہ مریم کی اس بابرکت عید کو عقیدت اور محبت کے ساتھ منائیں ۔آخر میں محترم عزت مآب بشپ صاحب فادر قیصر بوٹا اور فادر عدیل کی خدمات کو سرہاتے ہوئے انہیں شاباش دی اور پر زور تالیاں بجوائی گئی ۔پیرش پریسٹ قیصر بوٹا نے بشپ سبسٹین شاہ اور تمام فادر صاحبان سسٹر صاحبات نوونیہ ٹیم ، کوائرز اور گڈ شیپرڈ یوتھ گروپ کا شکریہ ادا کیا کہ ان سب لوگوں کی بدولت یہ دس دن کا طویل سفر مکمل ہوا واقعہ ہی میں سمجھتی ہوں یہ کامیابی کا سہرا فادر قیصر بوٹا اور فادر عدیل کو جاتا ہے ۔



